Saturday, January 10, 2009

Naat Ba Hazoor Akram SAW




A beautiful Naat by Janab Ahmed Nadeem Qasmi Marhoom

How to… spot serious medical symptoms?

Here are "five flags" - five medical symptoms - you should keep in mind:

1. If you have unexplained weight loss and/or loss of appetite , you may have a serious underlying medical illness.

"If you're on a diet, you're expecting this to happen. But if you're eating the same way - and now have to adjust your belt a few notches tighter - you could have a serious problem, so you should see a doctor." Shulman says.

2. Slurred speech, paralysis, weakness, tingling, burning pains, numbness, and confusion are signs of a stroke, and you should get to an appropriate emergency centre immediately. Early treatment may prevent permanent damage to the brain or even save your life.

3. Black, tarry stools may indicate a haemorrhage from an ulcer of the stomach or the small intestine. It is important to stop the bleeding and to rule out cancer as a cause.What you eat changes the colour of stools. But black, tarry stools mean there may be bleeding higher in the digestive tract, says Shulman. It could be a sign of a bleeding ulcer or cancer.

4. A headache accompanied by a stiff neck and fever is an indicator of a serious infection called meningitis. In fact, if you can't put your chin on your chest, that's a sign you may have bacterial meningitis, says Shulman. With bacterial meningitis, you need antibiotics immediately to kill the bacteria before it infects and scars the brain.

5. A sudden, agonizing headache, more severe than any you have felt before, could mean you are bleeding in the brain. Go to an emergency room immediately. A brain aneurysm is rare, but it can happen - even in people under 40. If you have a severe, crushing headache, you may have an aneurysm, which is a blood-filled pouch bulging out from a weak spot in the wall of a brain artery. If treated before it bursts, it could save your life.

Gasping and heart attacks


Gasping and heart attacks
When a heart attack victim gasps for air, bystanders often take it as a sign that they do not need to start giving CPR. But a new study reports that the people who gasp are more likely to survive — especially if they are given chest compressions right away.
Researchers said health professions needed to do a better job of educating people about the significance of gasping. There has been some debate about the likelihood of gasping in heart attacks and what it means.
Some bystanders who know how to do cardiopulmonary resuscitation do not do so because they do not associate gasping with a heart attack, the study says.
Others realize a heart attack has taken place but think that the gasping means there is no need to begin resuscitation right away. But when the researchers reviewed 1,200 cardiac arrest cases that occurred outside the hospital, they found that the patients were gasping about a third of the time.
And as the minutes went by, the gasping went away, as did the chances of saving the patient.
The study found that among those patients given CPR, the survival rate was 39 percent for those who gasped. For those who did not gasp, it was 9 percent. Gaspers did better than nongaspers even when CPR was not given. — New York Times News Service

Friday, January 9, 2009

Haveli kay bhoot prait --Mustansar Hussain Tarar - Master piece

حویلی کے بھوت پریت۔۔۔۔(مستنصر حسین تارڑ)

ایک متناسب بدن کی دراز قامت خاتون میرے قریب سے گزریں تو میرا دل دھک سے رہ گیا اورمیں نے اپنی بیگم کے کندھے کوجھنجھوڑ کر کہا’’تم نے دیکھا؟ تم نے دیکھا؟‘‘
اس نے بیزار ہوکر ادھر ادھر دیکھا اورکہا’’کیادیکھا؟‘‘
’’ میں نے ہکلاتے ہوئے کہا’’وہ خاتون اس نے صرف ایک قمیض پہن رکھی ہے اور اورشاید شلوار پہننا بھول گئی ہے‘‘
’’کچھ حیا کرو‘‘اس نے مجھے ڈانٹا’’ تمہیں اونچی سوسائٹی کی محفلوں میںبیٹھنے کاکچھ تجربہ نہیں اس نے شلوار نہیں چست پاجامہ پہن رکھاہے
۔

جوگھٹنوں سے ذرا نیچے آکر ختم ہوجاتاہے ان دنوں یہی فیشن ہے۔
اب غور کیاتو واقعی قمیض کے آخر میں دوچار گرہ کچھ تھا لیکن پنڈلیاں عیاں تھیں اس دوران ایک اورخاتون ویڈیو کیمرے کی زد میںآئی تو میرا دل دوبارہ دھک سے رہ گیا’’ بیگم اب تم بتاؤ کہ اس خاتون نے کیا پہنا ہوا ہے اگر کچھ پہناہوا ہے تو ؟‘‘
بیگم نے مجھے بری طرح گھورا’’ تم اس عمر میں بھی باز نہیںآتے کیوں ادھر ادھر تانک جھانک کررہے ہو‘‘
’’بیگم میں اتنی دیرسے بیکار بیٹھا انگلیاں چٹخا رہاہوں کیا آنکھیں بند کرکے بیٹھ جاؤں‘‘ میں نے غصے میں آکرکہا’’ اور میں تانک جھانک نہیں کررہا یہاں موجود اکثر خواتین مجھ سے تانک جھانک کروا رہی ہیں آخر کیوں ایسے لباس پہنتی ہیں‘‘
’’ان دنوں یہی فیشن ہے‘‘ اس نے مسکرا کرکہا
اس دوران ایک نوجوان،قیاس تو یہی تھا کہ وہ ایک نوجوان تھا عجیب زنانہ سے کپڑے پہنے مٹکتاہوا ہمارے پاس سے گزر گیا۔
’’ہاہائے‘‘ میری بیگم نے لبوں پرہتھیلی رکھ کرکہا’’ یہ پتہ نہیں بندہ تھا یازنانی‘‘
’’ان دنوں یہی فیشن ہے‘‘ میں نے بدلہ لے لیا۔
کچھ دیربعد اس ہجوم میں میری بیگم کوایک شناسا خاتون نظر آگئیں اوروہ مجھے تنہا چھوڑ کرلپکتی ہوئی ان کے پاس چلی گئی کہ اسے ابھی تک کوئی جاننے والی نہ ملی تھی۔
یہ ایک بہت وسیع لان میں ایستادہ شاہی خیموں کے اندر ایک شاہانہ شادی کی تقریب تھی ان خیموں کااندرون روسی زاروںاورفرانسیسی بادشاہوں کے محلات سے کہیں زیادہ شان وشوکت اورزرق بھڑک والاتھا قدم قدم پر قد آدم آئینے تھے۔ سینکڑوں کی تعداد میں گلدستے تھے۔ ہزاروں لائٹس تھیں۔ ہرمیز کی آرائش جدا تھی۔ ایکڑ بھر کے رقبے میں بچھے قالین نئے نکور اورمہنگے ترین تھے۔ موسیقی تھی اورہزاروں مہمان مدعو تھے اوران میںسے بیشتر ایسے تھے جونہ سلام کرتے تھے اورنہ ہاتھ ملاتے تھے ایک دوسرے کودیکھتے ہی مختصرسا’’ہائے‘‘ کہہ کرچوما چاٹی میں مشغول ہوجاتے تھے۔ ظاہر ہے میں ان میںسے کسی کوبھی نہ جانتا تھا اور ظاہر ہے وہ مجھے نہ جانتے تھے بلکہ حیرت زدہ ہوتے تھے کہ اسے یہاں کس نے بلالیا ہے اور دوچار جوپہچان لیتے تھے وہ مربیانہ انداز میں میری حوصلہ افزائی کرکے گزر جاتے تھے کہ ہم آپ کودیکھتے رہتے ہیں یوآرگڈ اورمجھے بھوک لگی تھی اگرچہ میں رات کاکھانا قدرے تاخیر سے کھاتاہوں لیکن یہاںتو رات بھی گزرنے والی تھی اورکھانے کے ابتدائی آثار بھی کہیں نظر نہ آتے تھے ہجوم میں مجھے کچھ سیاستدان اور چندایک مشہور ہستیاں نظر آئیں جوکسی صاحب کومبارک باد دے رہے تھے کہ وہ چندروز میں مرکز میں وزیرہونے والے تھے۔ کچھ ایسے بھی تھے جومجھے کسی حد تک جانتے تھے لیکن آج کی شب وہ اجتناب کررہے تھے ،میرے ساتھ دیکھے جانا نہیںچاہتے تھے کہ آخر ایک ادیب اورکالم نگار کے ساتھ دیکھا جانا کچھ باعث توقیر نہ تھا اس دوران ایک خاصے فربہ صاحب دھم سے میرے برابر میں بیٹھ گئے اورامریکی الیکشن ،آئی ایم ایف کے قرضوں سے ہوتے ہوئے مہنگائی اورغربت تک آگئے وہ مجھ سے تبادلہ خیال کرنے کے خواہاں نہ تھے بلکہ میرے ذہنی ارتقا کی خاطر ایک تقریر سی کررہے تھے تارڑ صاحب اس ملک کیلئے میرا دل روتاہے یہ کہہ کرانہوں نے ایک بڑے رومال میںایک لمبی شوں کی میرا دل اس ملک کے غریبوںاور بھوکوں کیلئے روتا ہے لوگ خود کشیاں کررہے ہیں ،مہنگائی عروج پرہے اورحکومت کچھ نہیںکرتی‘‘
’’آپ کوکس نے بتایاہے کہ مہنگائی عروج پرہے؟‘‘
’’میرے ملازموں نے بتایاہے کہ ان کی روٹی پوری نہیںہوتی میں ان سے پوچھتا رہتاہوں‘‘
مجھے یقین تھا کہ اس تقریب میںشامل تمام لوگ نہایت حساس اور دردمند تھے اور اپنے ملازموں سے پوچھتے رہتے تھے کہ روٹی پوری ہوتی ہے یانہیں۔
روٹی کے ذکرسے میری بھوک پھربھڑک اٹھی اورمیں نے اپنے پاس بیٹھے ایک صاحب سے دریافت کیاکہ کھانا کب تک لگ جانے کاامکان ہے انہوں نے ذرا ناگواری سے کہاکہ ابھی تو بچیاں بھنگڑا ڈال رہی ہیں فارغ ہوجائیںتو پھرکھانابھی کھالیںگے درجن بھربچیاں دولہا دولہن کی سٹیج کے سامنے ہندوستانی فلمی گانوں کی موسیقی پردل کی اوربدن کی بھڑاس نکال رہی تھیں۔
بالآخر رات کے دوبجے کھانا نصیب ہوا میرے برابر میں بیٹھے فربہ صاحب غریبوں کی حالت زار پراتنے دکھی تھے کہ کم ازکم سو غریبوں کے حصے کاکھانا کھاگئے بعد میں قہوہ سرکتے ہوئے کہنے لگے’’آپ بھی تو ملک کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کچھ کہئے‘‘
’’ میں نے حال ہی میںایک لطیفہ سناہے وہ پیش کرتاہوں‘‘
’’واہ واہ اتنے اچھے کھانے کے بعد لطیفوں کابہت لطف آتاہے‘‘
’’ایک پرانی حویلی کے بارے میں مشہور تھا کہ وہاں بھوت پریت رہتے ہیں ایک بچے نے ہمت کرکے اس کے دروازے پردستک دی تو دوصاحب باہر آگئے کہ کیابات ہے بچے نے کہاکہ جی ہم نے سناہے کہ اس حویلی کے اندر بھوت پریت رہتے ہیں تو وہ ہنس کرکہنے لگے نہیںبھئی ہم اس حویلی میں پچھلے سات آٹھ سوبرس سے رہتے ہیں بھوت پریت ہوتے تو ہمیں نظر نہ آتے۔ تو جناب پاکستان بھی ایک ایسی ہی حویلی ہے جس میں ایک عرصے سے بھوت پریت رہتے ہیں اوران میںسے بیشتر اس محفل میںموجود ہیں انہیں حویلی میں سے نکال دیجئے تو سب ٹھیک ہوجائے گا
’’اس محفل میںموجود ہیں؟‘‘انہوں نے حیرت سے کہا’’اگر ہوتے تو مجھے نظر نہ آتے

Monday, January 5, 2009

Moharram ul Haram - A gathering on Tuesday 6th January at BHB Islamic Centre, Auckland

Inshaallah there will be a programme on the importance of the first month of Islamic year, which started on 29 december 2008. This will be in Blockhouse Bay Islamic Centre 122 - 127 Blockhouse Bay Road. Auckland on Tuesday 6th January at 8:50 pm. The scholars will deliver speeches in English & Urdu. This is a great opportunity to learn about our history and importance of the month of Muharram. Pl come along with your family (seperate arrangements for women) specially your loving children to enhance their knowledge about Islam.

Sunday, January 4, 2009

who killed BB

Read between the line , this what Pakistan most powerful man is saying , he knows , who killed BB. his wife , he is still waiting for good time what is stopping him revealing names , if knows this much , why waste time and money for investigating by UNO , this man doesn't trust himself , nation is still in state of shock that how this man got up there , some time its looks like this man is Colon of mr Bush , great similarity between these tow is - they both don't know what they saying and what they are doing , what is happening around them , as they are choices of majority we should respect them